تیری تلاش

تو کون ہے اے ابن آدم، کہاں ہے تیرا گھر بار بیک وقت ماضی مستقبل حال، تیرے چہرے ہزار ان دیکھی منزل کی آس، راستے بے شمار خاموش  لب، نگاہوں کی پکار زمانےکے غم، رہی خوشی سے تکرار تنہا رہے ہم، ہر محفل بنی تیری یادگار Advertisements